Thursday, March 15, 2018
بلاگ کا مقصد
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قارئین کرام! مطب النور الیکٹروہومیوپیتھی و قانون مفرد اعضاء بلاگ میں خوش آمدید
ہمارے بلاگ کا مقصد آلٹر نیٹو سائینسز متبادل طریقہ ہائے علاج جن میں الیکٹروہومیوپیتھی ,قانون مفرد اعضاء, بائیوکیمک جیسے مفید طریقہ ہائے علاج کا فروغ و ترقی ہے
منہگائی کے اس دور میں جہاں ایلوپیتھی میڈیسنز اور علاج منہگے سے منہگا ہوتا جارہاہے اور غریب عوام علاج کروانے سے قاصر ہے اور بیماری سے لڑتے لڑتے بالآخر ہار جاتی ہے .....
لہزا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم عوام الناس کو متبادل طریقہ علاج سے آگاہی دی جائے تاکہ وہ اطمینان سے اپنا علاج کروا سکیں ... اور اس کے ساتھ ساتھ معالجین جو کسی بھی طریقہ ہائے علاج میں پریکٹس کر رہے ہیں ان کی خدمت میں یہ مفید ترین طریقہ ہائے علاج کا تعارف پنہچانا ہے تا کہ وہ مہنگے طریقوں سے علاج کی بجائے ایسے راستے کا انتخاب کر سکیں جو ان کو مالی فائدہ کےساتھ خدمت خلق بھی ہو سکے اور غریب عوام کی دعائیں بھی ہمیشہ شامل حال رہیں .......
وقتا فوقتا بلاگ میں ان شاءاللہ الیکٹرو ہومیو پیتھی اور قانون مفرد اعضاء کے بارے میں مفید مواد شئیر ہو رہے گا ہم امید رکھتے ہیں آپ احباب پڑھنے کے بعد ہماری تحاریر پہ اپنی مفید آراء سے بھی نوازیں گے تا کہ اس بلاگ کو ہم مفید سے مفید بنا سکیں
قارئین کرام ! اگر میں یہاں ان اساتذہ کرام اور دوستوں کا ذکر نہ کروں تو نا انصافی ہو گی کہ جن کہ رہنمائی سے میں یہ چند باتین چند تحاریر آپ تک پنہچانے کے قابل ہوا ہوں
قانون مفرد اعضاء میں جن اساتذہ کرام کی رہنمائی شامل حال رہی ان میں مولا حکیم مبشر نوید , مولانا حکیم و ڈاکٹر رضوان الحق سعید مغل , حکیم و ڈاکٹر پروفیسر عبدالرحمن بٹ , حکیم شکیل احمد باری , حکیم شان رضا قادری فرام انڈیا , حکیم سعیدالحسن , سرفہرست ہیں
الیکٹرو ہومیوپیتھی میں جن اساتذہ کرام اور دوستوں نے میری رہنمائی ان میں ڈاکٹرسید ذیشان ہاشمی چئرمین آل پاکستان الیکٹروہومیوپیتھک میڈیک ایسوسی ایشن , ڈاکٹر امیر علی صدیقی , ڈاکٹر تنویرشاہد, ڈاکٹر نعیم شاہد , ڈاکٹر منصور شیخ فرام انڈیا , ڈاکٹر جمیل شیخ فرام انڈیا , سرفہرست ہیں
میری دعا ہے اللہ تمام حضرات کے علم و عمل میں مزید ترقی عطافرمائے آمین
والسلام
الیکٹروہومیو ڈاکٹر و حکیم سیف الاسلام سیفی
ڈی ای ایچ ایم . فاضل قانون مفرد اعضاء و فاضل طب نبوی
قارئین کرام! مطب النور الیکٹروہومیوپیتھی و قانون مفرد اعضاء بلاگ میں خوش آمدید
ہمارے بلاگ کا مقصد آلٹر نیٹو سائینسز متبادل طریقہ ہائے علاج جن میں الیکٹروہومیوپیتھی ,قانون مفرد اعضاء, بائیوکیمک جیسے مفید طریقہ ہائے علاج کا فروغ و ترقی ہے
منہگائی کے اس دور میں جہاں ایلوپیتھی میڈیسنز اور علاج منہگے سے منہگا ہوتا جارہاہے اور غریب عوام علاج کروانے سے قاصر ہے اور بیماری سے لڑتے لڑتے بالآخر ہار جاتی ہے .....
لہزا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم عوام الناس کو متبادل طریقہ علاج سے آگاہی دی جائے تاکہ وہ اطمینان سے اپنا علاج کروا سکیں ... اور اس کے ساتھ ساتھ معالجین جو کسی بھی طریقہ ہائے علاج میں پریکٹس کر رہے ہیں ان کی خدمت میں یہ مفید ترین طریقہ ہائے علاج کا تعارف پنہچانا ہے تا کہ وہ مہنگے طریقوں سے علاج کی بجائے ایسے راستے کا انتخاب کر سکیں جو ان کو مالی فائدہ کےساتھ خدمت خلق بھی ہو سکے اور غریب عوام کی دعائیں بھی ہمیشہ شامل حال رہیں .......
وقتا فوقتا بلاگ میں ان شاءاللہ الیکٹرو ہومیو پیتھی اور قانون مفرد اعضاء کے بارے میں مفید مواد شئیر ہو رہے گا ہم امید رکھتے ہیں آپ احباب پڑھنے کے بعد ہماری تحاریر پہ اپنی مفید آراء سے بھی نوازیں گے تا کہ اس بلاگ کو ہم مفید سے مفید بنا سکیں
قارئین کرام ! اگر میں یہاں ان اساتذہ کرام اور دوستوں کا ذکر نہ کروں تو نا انصافی ہو گی کہ جن کہ رہنمائی سے میں یہ چند باتین چند تحاریر آپ تک پنہچانے کے قابل ہوا ہوں
قانون مفرد اعضاء میں جن اساتذہ کرام کی رہنمائی شامل حال رہی ان میں مولا حکیم مبشر نوید , مولانا حکیم و ڈاکٹر رضوان الحق سعید مغل , حکیم و ڈاکٹر پروفیسر عبدالرحمن بٹ , حکیم شکیل احمد باری , حکیم شان رضا قادری فرام انڈیا , حکیم سعیدالحسن , سرفہرست ہیں
الیکٹرو ہومیوپیتھی میں جن اساتذہ کرام اور دوستوں نے میری رہنمائی ان میں ڈاکٹرسید ذیشان ہاشمی چئرمین آل پاکستان الیکٹروہومیوپیتھک میڈیک ایسوسی ایشن , ڈاکٹر امیر علی صدیقی , ڈاکٹر تنویرشاہد, ڈاکٹر نعیم شاہد , ڈاکٹر منصور شیخ فرام انڈیا , ڈاکٹر جمیل شیخ فرام انڈیا , سرفہرست ہیں
میری دعا ہے اللہ تمام حضرات کے علم و عمل میں مزید ترقی عطافرمائے آمین
والسلام
الیکٹروہومیو ڈاکٹر و حکیم سیف الاسلام سیفی
ڈی ای ایچ ایم . فاضل قانون مفرد اعضاء و فاضل طب نبوی
Tuesday, July 4, 2017
LIST OF MEDICINAL PLANTS USED IN "ELECTRO-HOMEOPATHY" الیکٹروہومیو میں مستعمل پودے
.Abrotanum 2. Aconitum Napellus۔1
Adiantum Capillus 4. Aesculus Hippocastanum۔3
5. Agaricus Muscarius 6. Ailanthus 7. Aloe Capensis 8. Althea Officinalis 9. Allium Cepa 10. Allium Sativum 11. Anthemis Nobilis 12. Arnica Montana 13. Avena Sativa 14. Berberis Vulgaris 15. Belladonna Atropa 16. Betula Alba 17. Capsella Bursa Pastoris 18. Carduous Benedictus 19. Caulophyllum Thalicroides 20. Cetraria Islandica 21. Chamomilla 22. Chelidonium Majus 23. Chenopodium Anthelminticum 24.Cimicifuga Racemosa 25.Cina 26.Cinchona Calisaya 27.Cinchona Succirubra 28.Clematis Recta 29.Cochlaria Officinaiis 30.Condurango 31.Conium Maculatum 32.Dictamus Albus 33.Drosera Rotundifolia 34.Dulcamara 35.Echinacea Angustifolia 36.Erythreacentaurium 37.Eucalyptus Globulus 38.Euvonymus Europeus 39.Euphorbhium Arvense 40.Eupharasia Officinalis 41.Equisetum 42.Ervum Lens 43.Fucus Vesiculosis 44.Galeopsis 45.Genista Scoperia 46.Gentiana Lutea 47.Glechoma Hederacea 48.Guajacum Officinale 49.Hammamelis Verginica 50.Humulus Lupulus 51.Hydrastis Canadensis 52.Hyoscyamus Niger 53.Imperatoria 54.Ipecacuanha Uragoga 55.Ledum Palustre 56.Lobelia Inflata 57.Lycopodium Clavatum 58.Malva Sylvestris 59.Melissa Officinalis 60.Menyanthes Trifoliata 61.Mezereum Daphne 62.Millifolium Achilea 63.Myrtus Communis 64.Nasturtium Officinale 65.Nux Vomica 66.Oxalis Acetosella 67.Petroselinum Sativum 68.Phelandrium Aquaticum 69.Phytolacca Decantra 70. Pimplnelia Saxifraga 71. Pinus Maritama 72. Pinus Nigra 73. Podophyllum 74. Polygala Amara 75. Populus Alba 76. Populus Tremuloides 77. Pulmonaria Officinalis 78. Pulsatilia Vulgaris 79. Rheum Palmatum 80. Rhododendron 81. Rhus Aromatica 82. Rhus Toxicodendron 83. Rosa Canina 84. Rosmarinus 85. Ruta Graveolens 86. Salix Alba 87. Salvia Officinalis 88. Salvia Sclarea 89. Sambucus Nigra 90. Sanguinaria Canadensis 91. Sanguisorba Officinalis 92. Scrophularia Nodosa 93. Scolapendrium Vulgare 94. Simaruba Amara 95. Smilex Medica 96. Solidago Vigurea 97. Spigelia 98. Steffensia Elongata 99. Symphytum Officinale 100. Tanacetum Vulgarae 101. Taraxacum 102. Taxus Baccata 103. Teucrium Scordium 104. Thuja Occidentalis 105. Thymus Serpyllum 106. Tilia Europaea 107. Tussilago Farfara 108. Veronica Officinalis 109. Viburnum Opulus 110. Vinca Minor 111. Vincetoxicum Officinale 112. Viscum Album 113. Vitis VInifera
Adiantum Capillus 4. Aesculus Hippocastanum۔3
5. Agaricus Muscarius 6. Ailanthus 7. Aloe Capensis 8. Althea Officinalis 9. Allium Cepa 10. Allium Sativum 11. Anthemis Nobilis 12. Arnica Montana 13. Avena Sativa 14. Berberis Vulgaris 15. Belladonna Atropa 16. Betula Alba 17. Capsella Bursa Pastoris 18. Carduous Benedictus 19. Caulophyllum Thalicroides 20. Cetraria Islandica 21. Chamomilla 22. Chelidonium Majus 23. Chenopodium Anthelminticum 24.Cimicifuga Racemosa 25.Cina 26.Cinchona Calisaya 27.Cinchona Succirubra 28.Clematis Recta 29.Cochlaria Officinaiis 30.Condurango 31.Conium Maculatum 32.Dictamus Albus 33.Drosera Rotundifolia 34.Dulcamara 35.Echinacea Angustifolia 36.Erythreacentaurium 37.Eucalyptus Globulus 38.Euvonymus Europeus 39.Euphorbhium Arvense 40.Eupharasia Officinalis 41.Equisetum 42.Ervum Lens 43.Fucus Vesiculosis 44.Galeopsis 45.Genista Scoperia 46.Gentiana Lutea 47.Glechoma Hederacea 48.Guajacum Officinale 49.Hammamelis Verginica 50.Humulus Lupulus 51.Hydrastis Canadensis 52.Hyoscyamus Niger 53.Imperatoria 54.Ipecacuanha Uragoga 55.Ledum Palustre 56.Lobelia Inflata 57.Lycopodium Clavatum 58.Malva Sylvestris 59.Melissa Officinalis 60.Menyanthes Trifoliata 61.Mezereum Daphne 62.Millifolium Achilea 63.Myrtus Communis 64.Nasturtium Officinale 65.Nux Vomica 66.Oxalis Acetosella 67.Petroselinum Sativum 68.Phelandrium Aquaticum 69.Phytolacca Decantra 70. Pimplnelia Saxifraga 71. Pinus Maritama 72. Pinus Nigra 73. Podophyllum 74. Polygala Amara 75. Populus Alba 76. Populus Tremuloides 77. Pulmonaria Officinalis 78. Pulsatilia Vulgaris 79. Rheum Palmatum 80. Rhododendron 81. Rhus Aromatica 82. Rhus Toxicodendron 83. Rosa Canina 84. Rosmarinus 85. Ruta Graveolens 86. Salix Alba 87. Salvia Officinalis 88. Salvia Sclarea 89. Sambucus Nigra 90. Sanguinaria Canadensis 91. Sanguisorba Officinalis 92. Scrophularia Nodosa 93. Scolapendrium Vulgare 94. Simaruba Amara 95. Smilex Medica 96. Solidago Vigurea 97. Spigelia 98. Steffensia Elongata 99. Symphytum Officinale 100. Tanacetum Vulgarae 101. Taraxacum 102. Taxus Baccata 103. Teucrium Scordium 104. Thuja Occidentalis 105. Thymus Serpyllum 106. Tilia Europaea 107. Tussilago Farfara 108. Veronica Officinalis 109. Viburnum Opulus 110. Vinca Minor 111. Vincetoxicum Officinale 112. Viscum Album 113. Vitis VInifera
الیکٹرو ہومیوپیتھی کے رہنما اصول
الیکٹرو ہومیو پیتھک طریقہ علاج کے بنیادی اصول فطرت کے عین مطابق ہیں
(1) انسانی جسم میں ایک برقی طاقت ہوتی ہے جس کے دو حصے ہیں ایک مثبت دوسرا منفی پہلی برقی طاقتیں اعصاب کے اندر زندگی اورفعالیت پیدا کرتی ہیں
(2) زندگی اور صحت کا دارومدار عصبی نظام کے ٹھیک ہونے پر ہے ،کیونکہ انسانی جسم کا کوئی بھی عضو اس وقت تک حرکت نہیں کرسکتا جب تک کوئی خاص عصب
(نرو) اسے تحریک نہ دے ۔دوسرے الفاظ میں ہمارے جسم کے تمام اعضاء نظام عصبی (نروس سسٹم) کے تابع ہیں
(3) جسم کے ہر حصے میں جذب اور دفع کا سلسلہ ہر وقت جاری رہتا ہے
(4) جسم کے اندر مسلسل ٹوٹ پھوٹ سے جو ذرات جمع ہوتے رہتے ہیں ان کا اخراج ضروری ہے ورنہ وہ صحت پر برا اثر ڈالتے ہیں
(5)تباہ شدہ ریشوں کی جگہ نئے ریشوں کی تعمیر کے لئے جن اجزاء کی ضرورت ہوتی ان کو جسم غذا ،پانی اور ہوا سے حاصل کرتا رہتا ہے
(6) فضلات کے اخراج اور تعمیر جدید کے لئے عناصر مہیا کرنے کی غرض سے اس جسم میں دو سرکیولیشن (circulation) موجود ہیں ایک کو Blood Circulation اور دوسری کو Lymph Criculation کہتے ہیں
(7) جسم کے ریشوں کی تعمیر کا سب سے اہم ذریعہ خون ہے اور فضلات کا اخران لمف Lymphکے زریعہ ہوتا ہے ۔ لمف جب ریشوں کو دھوتا ہے تو تباہ شدہ خلیوں کونکال کر باہر پھینک دیتا ہے
(8) اگرہمارے جسم کے دموی اور بلغمی نظام درست رہیں اور جسم کو باقاعدگی کے ساتھ ضروری اجزاء فراہم ہوتے رہیں اور بے کار فاسد مادے نکلتے رہیں تو انسانی صحت برقراررہتی ہے
(9) اگر مندرجہ بالا جسمانی نظاموں میں سے ایک بھی گڑبڑ کا شکار ہو جائے تو صحت میں بگاڑ آ جاتا ہے
مندرجہ بالا جسمانی نظاموں کی خرابیاں دور کرنے کے لئے ڈاکٹر کاونٹ میٹی موجد الیکٹرو ہومیوپیتھی نے اپنی ادویات کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا ہے
پہلاگروپ
سکروفلوسوز ‘‘ ادویات کا ہے جو بلغمی مزاج کے لوگوں کے لئے اکسیر ہے
دوسرا گروپ
انجائیٹیکو ‘‘ ادویات کا ہے جو دموی مزاج کے لوگوں کے جملہ امراض کا شافی علاج پیش کرتا ہے
تیسرا گروپ
’’ کینسروسو ز’’ ادویات کا ہے جو ریشوں کی تعمیر کرنے والی ادویات ہیں اور ان تمام امراض میں کام آتی ہیں ۔ جو ریشوں کے ضائع ہوجانے کے باعث ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ عضلاتی بیماریوں کو دور کرتی ہیں ۔ان ادویات کومزاجی دوا کے ہمرا استعمال کرنا چاہیے
چوتھا گروپ
ان ادویات کا ہے جو نظام عصبی کوطاقت دیتی ہیں اور انہیں اعتدال پرلانے کی غرض سے کام کرتی ہیں
(1) انسانی جسم میں ایک برقی طاقت ہوتی ہے جس کے دو حصے ہیں ایک مثبت دوسرا منفی پہلی برقی طاقتیں اعصاب کے اندر زندگی اورفعالیت پیدا کرتی ہیں
(2) زندگی اور صحت کا دارومدار عصبی نظام کے ٹھیک ہونے پر ہے ،کیونکہ انسانی جسم کا کوئی بھی عضو اس وقت تک حرکت نہیں کرسکتا جب تک کوئی خاص عصب
(نرو) اسے تحریک نہ دے ۔دوسرے الفاظ میں ہمارے جسم کے تمام اعضاء نظام عصبی (نروس سسٹم) کے تابع ہیں
(3) جسم کے ہر حصے میں جذب اور دفع کا سلسلہ ہر وقت جاری رہتا ہے
(4) جسم کے اندر مسلسل ٹوٹ پھوٹ سے جو ذرات جمع ہوتے رہتے ہیں ان کا اخراج ضروری ہے ورنہ وہ صحت پر برا اثر ڈالتے ہیں
(5)تباہ شدہ ریشوں کی جگہ نئے ریشوں کی تعمیر کے لئے جن اجزاء کی ضرورت ہوتی ان کو جسم غذا ،پانی اور ہوا سے حاصل کرتا رہتا ہے
(6) فضلات کے اخراج اور تعمیر جدید کے لئے عناصر مہیا کرنے کی غرض سے اس جسم میں دو سرکیولیشن (circulation) موجود ہیں ایک کو Blood Circulation اور دوسری کو Lymph Criculation کہتے ہیں
(7) جسم کے ریشوں کی تعمیر کا سب سے اہم ذریعہ خون ہے اور فضلات کا اخران لمف Lymphکے زریعہ ہوتا ہے ۔ لمف جب ریشوں کو دھوتا ہے تو تباہ شدہ خلیوں کونکال کر باہر پھینک دیتا ہے
(8) اگرہمارے جسم کے دموی اور بلغمی نظام درست رہیں اور جسم کو باقاعدگی کے ساتھ ضروری اجزاء فراہم ہوتے رہیں اور بے کار فاسد مادے نکلتے رہیں تو انسانی صحت برقراررہتی ہے
(9) اگر مندرجہ بالا جسمانی نظاموں میں سے ایک بھی گڑبڑ کا شکار ہو جائے تو صحت میں بگاڑ آ جاتا ہے
مندرجہ بالا جسمانی نظاموں کی خرابیاں دور کرنے کے لئے ڈاکٹر کاونٹ میٹی موجد الیکٹرو ہومیوپیتھی نے اپنی ادویات کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا ہے
پہلاگروپ
سکروفلوسوز ‘‘ ادویات کا ہے جو بلغمی مزاج کے لوگوں کے لئے اکسیر ہے
دوسرا گروپ
انجائیٹیکو ‘‘ ادویات کا ہے جو دموی مزاج کے لوگوں کے جملہ امراض کا شافی علاج پیش کرتا ہے
تیسرا گروپ
’’ کینسروسو ز’’ ادویات کا ہے جو ریشوں کی تعمیر کرنے والی ادویات ہیں اور ان تمام امراض میں کام آتی ہیں ۔ جو ریشوں کے ضائع ہوجانے کے باعث ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ عضلاتی بیماریوں کو دور کرتی ہیں ۔ان ادویات کومزاجی دوا کے ہمرا استعمال کرنا چاہیے
چوتھا گروپ
ان ادویات کا ہے جو نظام عصبی کوطاقت دیتی ہیں اور انہیں اعتدال پرلانے کی غرض سے کام کرتی ہیں
بنیادی اصول BASIC PRINCIPAL
طب میں سب سے بڑا اور اہم بنیادی اصول بدن سے فاسد مادہ کا اخراج ہے ،
الیکٹرو ہومیوپیتھی کا بنیادی اصول انسانی فطرت کے عین مطابق ہے ۔ جسم انسانی جس طرح غذاوں کو ہضم کرتاہے پہر ان سے حاصل شدہ رس یعنی کیموس وکیلوس کو جذوبدن بناتا ہے اس کیمیاوی عمل سء جو ردی ماضل مادے باقی بدن میں رہ جاتے ہیں ان کا خارج ہونا صحت کے لیے ازحد ضروری ہے،پیشاب پاخانہ اور پسینہ (غددناقلہ) ان مادوں کو باہر کرنے کا فطری عمل ہے ۔
الیکٹرو ہومیو نے ادویات کی تیاری میں اسی اصول کو بنیاد بنایاہے ۔جس کا مقصد یہ ہے کہ لمفاوی و اعصابی ،مثبت دموی (عضلاتی) سوداوی نظام ، منفی دموی (غدی) صفروای نظام میں خرابی آنے سے جو ردی مادے پیدا ہوتے ہیں ان کو بآسانی خارج کرنے میں معاون ثابت ہوں ، یہی اس طریقہ علاج کا بنیادی مقصد ہے
الیکٹرو ہومیوپیتھی کا بنیادی اصول انسانی فطرت کے عین مطابق ہے ۔ جسم انسانی جس طرح غذاوں کو ہضم کرتاہے پہر ان سے حاصل شدہ رس یعنی کیموس وکیلوس کو جذوبدن بناتا ہے اس کیمیاوی عمل سء جو ردی ماضل مادے باقی بدن میں رہ جاتے ہیں ان کا خارج ہونا صحت کے لیے ازحد ضروری ہے،پیشاب پاخانہ اور پسینہ (غددناقلہ) ان مادوں کو باہر کرنے کا فطری عمل ہے ۔
الیکٹرو ہومیو نے ادویات کی تیاری میں اسی اصول کو بنیاد بنایاہے ۔جس کا مقصد یہ ہے کہ لمفاوی و اعصابی ،مثبت دموی (عضلاتی) سوداوی نظام ، منفی دموی (غدی) صفروای نظام میں خرابی آنے سے جو ردی مادے پیدا ہوتے ہیں ان کو بآسانی خارج کرنے میں معاون ثابت ہوں ، یہی اس طریقہ علاج کا بنیادی مقصد ہے
ہیضہ (CHOLERA) اور الیکٹرو ہومیو پیتھی
یہ ایک متعدی بیماری ہے جو اکثر وباء کے طور پر پھیلتی ہے اس میں کثرت سے دست اور قے آتی ہے جس سے مریخ نڈھال ہو جاتا ہے
اس مرض میں جب کہ یہ وبائ شکل میں ہو وبریو کالرا نامی جرثومے چھوٹی آنتوں میں اٹیک کرتے ہیں جسکی وجہ سے بار بار قے اور اسہال آتے ہیں اور پھت مکھیوں کے زریعے تندرست افراد کی کھانے پینے کی اشیاء تک پنہچ جاتے ہیں اس طرح یہ مرض ایک وباء کی شکل اختیار کر لیتا ہے
اس کی دوسری قسم ہیضہ غیروبائ ہے
یہ صورت موسم گرما میں شدید ہوتی ہے . گرمی کے باعث ٹھنڈی اشیاء کا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے تر, کھیرا , خربوزہ , تربوز وغیرہ ایسی تر سرد غزائیں کھانے کے بعد اگر پانی پیا جاے تو معدے کا سوداء (تیزابیت) کھاری پن (الکلی) میں بدل جاتاہے اگر اس کے بعد مزید پانی پی لیا جاے تو قوت جاذبہ پانی کو جذب نہیں کرپاتی . اور قوت ماسکہ اس پانی کوکنٹرول کرنے سے عاجز آجاتی ہے جس پر قوت ہاضمہ کوی عمل نہیں کرسکتی بالآخرقوت دافعہ قے اور اسہال کی صورت میں اسے جسم سے نکالنے پر مجبور ہوجاتی ہے
اس مرض کا زمانہ خصانت ایک سے چار دن ہے.. جس کو ہم چار درجات میں تقسیم کریں گے
پیٹ میں خفیف درد , دست اور قے
اس درجہ میں ایٹھین , پیاس کی شدت ہوجاتی ہے
یہ ضعف کا درجہ یا کولیپس سٹیج (COLLAPSE STAGE) کہلاتا ہے
جسم سے پانی اور خون بکثرت خارج ہوجانے سے خون گھاڑھا ہوجاتا ہے اور اس کا دوران سست ہو جاتا ہے جسم سرد پڑ جاتا ہے شدید ضعف ہوتا ہے پیشاب بالکل بھی نہیں آتا
اس حالت میں مریض بھی مایوس ہونے لگتا یے چہرے پہ افسردگی چھا جاتی یے
اس حالت میں مریض تین سے اٹھارہ گھنٹے میں مر سکتا ہے اگر یہ مدت گزر جائے تو صحت یابی کی امید ہو جاتی یے
تیسرا درجہ خیروعافیت سے گزر جاے تو مرض کا چوتھا درجہ شروع ہو جاتا یے.
اس درجہ میں مرض گھٹنا شرور ہو جاتا یے علامات میں تخفیف , قے بند , نبض تیز چلنے لگتی ہے بدن گرم ہونے لگتا ہے
مرض شروع ہونے پر سکروفلوسو 10 کی پندرہ گولیاں استعمال کرائیں
ہھر سکروفلو 5 اور 10 دوسری طاقت میں ہر پانچ منٹ بعد دیں اور ہر دست کے بعد 10 گولیاں سکروفلوسو 10 کھلائیں
سرخ و زرد بجلیاں باری باری فم معدہ پر لگائیں
دموی مزاج کے مریض کو نیلی یا سفید بجلی فم معدہ پہ لگائیں
اور فیبریفیوگو 2 کی جگر کے مقام پہ مالش کریں

